رائل پریسٹ چرچ کی مختصر تاریخ
پہلا اجلاس 26 اپریل سنہ 2014 کو بلایا گیا۔یہ اجلاس غازي آباد اورنگی ٹاؤن میں بلایا گیا اور اورنگی ٹاؤن چرچ میں منعقد ہوا۔ اس اجلا س کی میزبانی ریورنڈ نذیرکھوکر صاحب نے کی۔اس اجلاس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے پاسٹر صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس دعا سے شروع ہوا اور اور اجلاس کی صدارت بھی نذیرکھوکر صاحب کے سپرد کی گئی۔یہ فیصلہ ہوا کہ ایک منسٹری رجسٹرڈ کی جائے اور اس خدمت کے کام کو ہم سب ملکر کریں اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی گئی۔اس کمیٹی میں چرچ منسٹری کے چئیرمین کے لئے نذیرکھوکر کا نام پیش کیا گیا جس پر تمام ممبروں نے اتفاق کیا۔ اس کے بعد چرچ منسٹری کے لئے مختلف نام تجویزکئے گئے جس میں رائل پریسٹ چرچ ان پاکستان کے نام پر سب نے اتفاق کیا۔
چرچ کی زمین نذیرکھوکر صاحب نے اپنے پیسوں سے خریدی تھی اور اس کی تعمیر بھی انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے کی تھی۔ جب نذیرکھوکر صاحب اپنے گھر کی تعمیر کررہے تھے اور خداوند خدا نے ان کو توفیق دی کہ وہ فرسٹ فلور کو مکمل فرنش کرچکے اور دوسری منزل کا ارادہ کررہے تھے تو ان کے دل میں داؤد بادشاہ کی بات آئی اور ایک چرچ قائم کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہ خیال ان کے دل میں آیا کہ انہوں نے اپنے لئے تو خوبصورت گھر تعمیر کرلیا لیکن خدا کے گھر کی تعمیر کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ یہ خیال آتے ہی انہو ں نے گھر کی تعمیر روک دی اور خدا کے گھر کی تعمیر پر غور وفکر شروع کیا۔ اس مقدس ارادے میں خداوند خدا نے اتنی برکت دی کہ چرچ کی تعمیر مکمل ہوئی اور 9 اگست 2014 کو چرچ کا افتتاح کیا گیا جس میں منسٹری کے دیگر چرچز نے بھی حصہ لیا اور بہت سارے مہمانوں کی موجودگی میں چرچ کو مقدس کیا گیا۔

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home